نئی دہلی،12 /اکتوبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) ملک کے کسانوں کو زرعی قوانین کے خلاف اپنے کھیت کوچھوڑ کر احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔یہ وقت کھیتی کے لحاظ سے مصروفیت کا وقت ہے، یہ وقت دھان کی فصل کاٹنے کا ہے لیکن کسان مظاہرہ کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کو جنتر منتر میں زرعی قوانین کے خلاف منعقد مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
دہلی کے سی ایم نے کہاکہ آج دکھ کے موقع پر احتجاج کرنے آئے ہیں۔زرعی قوانین کے ذریعے حکومت کسانوں سے کاشتکاری چھین کر کمپنیوں کو دینا چاہتی ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد جب اناج کی پریشانی تھی، تب کمپنیاں نہیں بلکہ کسان کام آئے تھے اور انقلاب برپا کیاتھا۔
دہلی کے وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2014 کے انتخابات سے قبل بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ سوامی ناتھن اس رپورٹ کو نافذ کریں گے جس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) ڈیڑھ گنا ہوگی لیکن الیکشن جیتنے کے بعد ایم ایس پی کو ختم کردیا، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت پورے ملک میں صرف 6فیصد ایم ایس پی لیتی ہے، یہ شرم کی بات ہے۔ ہم نے سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کو بند نہیں کیا بلکہ اس کو ٹھیک کیا ایسا ہی ان کوکرنا چاہئے تھا۔ ایم ایس پی میں انہوں نے پیٹھ پروار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کسانوں کی قومی پارٹی ہے۔ اس پارٹی کے ایک بہت بڑے رہنما کیپٹن امریندراس میٹنگ میں تھے جس میں زرعی قانون بنائے گئے تھے اور اب وہ ٹریکٹر ریلی نکال رہے ہیں؟ دوسری پارٹی اکالی دل بل پاس کراکر استعفیٰ دے رہی ہے یہ دونوں ڈرامہ کررہے ہیں۔ کجریوال نے کہا کہ ان قوانین کو واپس لیا جانا چاہئے۔ ایم ایس پی پر قانون لایا جائے کہ 100 فیصد فصل ایم ایس پی پر اٹھے گی اور لاگت کا ڈیڑھ گنا ایم ایس پی دیاجائے۔